تلخیاں تحریر عاصم محمود 61

تلخیاں

زندگی کی تلخیاں سراب کرتے ہوئے آپ کو کبھی نہ کبھی کسی ایسے مقام پر لے آتی ہیں۔ آپ بہت ساری آزمائشوں کو کو دل کھول کر سراب کر جاتے ہیں۔ کچھ تلخیاں ہمارے سائے کی طرح ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتی ہیں۔  ہم جتنا مرضی ان کو دھتکاریں مگر وہ واقعی میں سائے کی مانند ہوتی ہیں روشنی میں ہمیں اور طاقت سے محسوس ہوتی ہیں۔ تلخیوں کی بڑی بڑی نایاب قِسمیں ہیں۔ ہر تلخی اپنا رنگ رکھتی ہے اور ہر رنگ اپنا آپ دیکھاتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی چھوٹے سے بچے کو  بھوک سے بلکتے دیکھا ہے؟

اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ کیاوہ بھی کسی تلخی میں مبتلا ہے ؟ نہیں وہ بھوک سے بلکتا جا رہا ہوتا ہے جب کہ تلخی کے گھونٹ اس کی ماں پی رہی ہوتی ہے اس بے بسی کے عالم میں جب وہ اپنے بچے کو ہر بار بھوک لگنے پر صرف پانی پلا رہی ہوتی ہے اس کے پاس دوسری چوائس نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلا سکے یا روٹی دے سکے۔ اس لمحے کو اگر آپ امیجن کریں تو ایک جھرجھری سی آپ کے بدن میں سے بھی ہوکر گزر جائے گی۔

تلخیاں 2 تحریر عاصم محمود

زندگی اللہ کی بہت بڑی عطا ہے۔ ایک زندگی کو زندگی بنانے میں 2 زندگیاں جڑی ہوتی ہیں جسے ماں پاب کہا جاتا ہے۔ وہ 2 زندگیاں جو نئی زندگی بنا رہی ہوتی ہیں بالکل اس کمہار کی طرح جو اپنے ہاتھ گیلی مٹی میں گندے کر کے ایک خوبصورت برتن تیار کر رہا ہوتا ہے اسے گندگی کی بالکل بھی فکر نہیں ہوتی بس یہ خیال ہوتا ہے کہ اس کا برتن اس کی امید پر پورا اترے گا اور جب برتن تیار ہو جاتا ہے وہ اس کی سجاوٹ کرتا ہے اور اچانک سے ایک دن اس کے ہاتھ سے وہ برتن ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ برتن نہیں اس کی وہ امید ٹوٹتی ہے جو اس نے گندگی میں سے اپنے لئے پیدا کی ہوتی ہے۔

اسی طرح 2 زندگیاں جس زندگی کو تیار کر رہی ہوتی ہیں اس سے بڑی امیدیں لگا لیتی ہیں اپنے سارے سُکھ اپنی ساری خواہشیں اُس زندگی پر قربان کر دیتی ہیں اور ایک دن ایسا ہوتا ہے کہ جب امیدیں خواہشیں خؤاب پورے ہونے کا وقت آتا ہے تو وہ زندگی کسی بیماری کی نذر ہو جاتی ہے۔ اس زندگی کو باپ کبھی گود میں اٹھا کر ہسپتالوں کے چکر لگا رہا ہوتا ہے کبھی کسی دربار کی لائن میں لگ کر اس زندگی کی زندگی مانگ رہا ہوتا ہے وہ باپ کتنا بے بس ہوتا ہوگا اس وقت جب ڈاکٹر اسے وہ دوائی لانے کو کہتا ہے جسے لانے کے لئے اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ اسے تلخی کہتے ہیں۔

ہم ٹی وی ، انٹرنیٹ، نیوز چینلز ، نیوز پیپرز میں روزانہ ہلاکتوں کو پڑھتے دیکھتے سنتے ہیں۔ کوئی کار ایکسیڈنٹ سے مر گیا تو کوئی خودکشی جیسے حادثے کا شکار ہوگیا۔ حقیقت یہی ہے کہ صرف وہ نہیں مرتا، مرتے وہ ہیں جو اس سے جڑے رشتے ہوتے ہیں، مر وہ جاتے ہیں جنہیں ہم ماں باپ کہتے ہیں۔ مرنے والا تو موت کی آغوش میں گیا ہوتا ہے جو زندہ مردے ہوتے ہیں مرے وہ ہوتے ہیں ۔ جن کے تہوار مر جاتے ہیں جن کی مسکراہٹیں مر جاتی ہیں۔ جن کے سُکھ مر جاتے ہیں یہ تلخی ہمارے آس پاس اکثر منڈلاتی نظر آتی ہے۔ اس تلخی کا ازالہ یا نعم البدل آج تک نہیں آیا۔




ایک ڈاکو پولیس مقابلے میں مرتا ہے نا تو بہت ساری زندگیاں جو اس ڈاکو کی وجہ سے پریشان ہوتی ہیں۔ وہ ڈاکو اپنے انجام کی موت مرتا ہے مگر مر تو وہ بھی جاتے ہیں نا جنہوں نے اس ڈاکو کی پرورش کی ہوتی ہے جنہوں نے تب ہی یہ فیصلہ کر لیا ہوتا ہے کہ ان کا بیٹا بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے گا جب ان کا بیٹا پہلی دفعہ اسکول جاتا ہے۔  وہ بھی کیسا لمحہ ہوگا جب باپ اپنے بیٹے کی اسکول کاپی پر اپنے بیٹے کے نام کے ساتھ اپنا نام جُڑا دیکھتا ہوگا، اور بھی کیسا لمحہ ہوگا جب وہی باپ اسی ڈاکو بیٹے کو قبر میں اتارتا ہوگا۔

کہتے ہیں وقت سب سے بڑا استاد ہے، میرا یہ کہنا ہے کہ تلخی وقت کے گھر کی لونڈی ہے۔  وقت گزرتا رہتا ہے مگر تلخیاں سائے کی طرح آپ کے ساتھ رہتی ہیں۔

مجبوریوں کی گھٹری کھولی جائے تو اس میں سے ساری خوشبوئیں تلخیوں کی آئیں گی۔ گریجویشن کر لی اتنے وسائل نہیں کہ اپنا کام شروع کر سکیں۔ بہن روزانہ نئی شرٹ استری کر کے دیتی۔ ماں دعاؤں کے ڈھیر لگا دیتی جب اس کا بیٹا گھر میں یہ کہتا ہے کہ صبح میرا انٹرویو ہے۔ باپ موٹر سائیکل کی چابی اور پیسے دیتا ہے کہ بیٹا لیٹ نہ ہو جانا میری موٹر سائیکل لے جانا اور پٹرول ڈلوا لینا میں بس ویگن میں سفر کر کے کام پر چلا جاؤنگا۔ صرف ایک جملے ” صبح میرا انٹرویو” ہے سے کتنی ساری خواہشیں کتنے سارے خواب کتنی ساری امیدیں پرورش پا جاتی ہیں یہ اٗس سے پوچھیں جو بالآخر یہ کہنا ہی چھوڑ دیتا ہے کہ ” صبح میرا انٹرویو ہے” بہن شرٹ استری کرنا نہیں چھوڑتی، ماں دعاؤں کے ڈھیر لگانا نہیں بھولتی۔ باپ کبھی یہ ظاہر نہیں ہونے دیتا کہ پٹرول کے پیسے دینے کے بعد وہ خالی جیب ہے اور اکثر وہ 2 میل پیدل چل کر کام پر جاتا ہے۔ بس بیٹا ہی کہنا چھوڑ دیتا ہے ” صبح میرا انٹرویو ہے "۔ کیونکہ وہ جان چکا ہوتا ہے کہ دنیا میں انٹرویو دینے آیا ہے وہ یقین کی اس حد تک پہنچ چکا ہوتا ہے کہ وہ کبھی اپنے پیسوں سے ماں باپ کو حج عمرہ نہیں کرواسکے گا کیونکہ وہ زمانے کی تلخیوں کے گھونٹ اس طرح سے اپنے اندر اتار چکا ہوتا ہے جیسے بہت سخت گرمی کی دھوپ میں کوئی مسافر بہت شدت کی پیاس کے ساتھ کہیں سے پانی ملنے کے بعد وہ گھونٹ اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے۔

ایک لڑکی شادی کے بعد کی زندگی کے کیسے کیسے خواب اپنے پلو کے ساتھ باندھ کر رکھتی ہے۔ کیا کیا سوچتی ہے کہ اس کی شادی شدہ زندگی کیسے کیسے کتنی خوشگوار ہوگی۔ شادی کے بعد اس کا شوہر بد کردار نکل آتا ہے، وہ اپنی بیوی کو مارتا ہے، اس لڑکی کے وہ خواب شوہر نما تلخی کو ڈٗونیٹ ہو جاتے ہیں اور ایک دن ایسا آتا ہے کہ طلاق کا سرٹیفیکیٹ لیکر وہ اپنے گھر بیٹھی اپنے ماں باپ کو یہ یقین دلانے کی ناکام کوشش کر رہی ہوتی ہے کہ وہ اس حال میں بھی خوش ہے۔

تلخیاں 2 تحریر عاصم محمود

تلخیاں کسی دشمن کی پیداوار نہیں ہیں یہ ہمارے اپنے زمانے کی پیداوار ہیں ہم سب ان تلخیوں کو پیدا کرنے والے گنہگار ہیں۔ ہمارے ایسے گناہ تب اور بڑھنے لگ جاتے ہیں جب ہمارا ان پر یقین پکا ہونا شروع ہو جاتا ہے جب ہمیں تلخیوں سے آگے کوئی دنیا آباد نظر نہیں آتی ہم مایوس اتنے ہو جاتے ہیں کہ ہمیں اجالا بھی کسی تلخی کی قِسم لگتا ہے اور ہمیں ہماری اپنی خوشی بھی تلخی کی مانند لگتی ہے۔ ہم گنہگاروں سے اچھی تو وہ ماں ہے جو اپنے بلکتے بچے کو اس کی بھوک میں دودھ کی جگہ پانی دے رہی ہوتی ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس سے اس کے بچے کی بھوک کم یا ختم ہو جائے گی، اسے یقین ہوتا ہے کہ اگر اس وقت پانی ہے تو بعد میں دودھ بھی ہوگا۔ جب ایک ماں اتنی تلخ حقیقت کو قبول کر کے بچے کو بے بس نہیں ہونے دیتی اسے خالی پیٹ نہیں رہنے دیتی تو جو 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والی رب کی ذات ہے وہ کب تک آپ کو تلخیوں کے ترازو میں رکھے گی۔ وہ آپ کو ہر تلخی کے پس منظر یہ باور کرواتا ہے کہ میں تمہارا رب ہوں مجھے تم بہت عزیز ہو یہ تلخی بھی میری عنائیت ہے اور ہر مشکل کے بعد آسانی ہے یہ بھی میری رحمت ہے۔




صرف ” ہر مشکل کے بعد آسانی ہے ” پر اپنا عقیدہ باندھ لیں۔ آپ ڈاکو کے باپ ہیں ، آپ طلاق یافتہ عورت ہیں یا آپ وہ بیٹے ہیں جو دنیا میں انٹرویو دینے آیا ہے، آپ کو کسی نہ کسی لمحے یہ واضح ہو جائے گا کہ آپ ڈاکو کے باپ نہیں ، ڈاکو زمانے کی پیداوار ہے، آپ کی طلاق یافتہ زندگی میں بھی وہ رنگ بھر جائیں گے جب آپ کا بیٹا ایک دن آپ کی ہتھیلی پر دنیا جہاں کی خوشیوں کو سُکھ کو سجا رہا ہوگا، جب انٹرویو دینے والا بیٹا یہ سوچ کر وہاں سے شروعات کرے گا کہ انٹرویو اپنے لیول کی جگہ پر نہیں دینا جو لا حاصل ہے اپنا گراف نیچے کر کے اس جگہ سے کام شروع کرنا ہے جس سے باپ کی جیب خالی نہ ہو۔ تلخیاں ہم خود کی پیداوار ہے ۔ ایک طلاق یافتہ ماں کی تلخی کی ڈوز تو اللہ نے اس کے تیرہ چودہ سال کے بچے کو چومنے میں ہی سمیٹ دی ہے۔ ایک بے بس باپ کی تلخی صرف دربار پر ہی نہیں بلکہ اللہ نے اپنے آگے سجدے کرنے میں پنہاں کرکے رکھی ہوئی ہے۔ اللہ تو رحمن و رحیم ہے۔ ہم خود تلخیوں کی پیداوار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “تلخیاں

  1. انسان جب بےبس اور لاچار ہوتا ہے تو تلخی میں اضافہ ہوتا ہے-
    دانشور فرما گئے ہیں کہ غم انسان کو دھیما اور میٹھا کردیتا ہے اس لیے انسان غم تو پال لیتا ہے لیکن تلخی بے بسی برداشت نہیں کر پاتا ہے-

    بہت ہی عمدہ تحریر… اپنے اصل کی طرف لوٹ رہے ہو تو بہت سی نیک تمنائیں اور اب لگے رہے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں